Traffic Wardens and Tourist Police Abbotabad Inaugurated
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ایبٹ آباد میں ٹریفک وارڈن سسٹم٬ ٹورسٹ پولیس فورس اور ریسکیو 1122 ایمرجنسی سروس کا افتتاح کیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پولیس ریفارمز کے نتیجے میں پولیس کا عوام کی خدمت کیلئے پرعزم رہنا اور ان میں احساس ذمہ داری خوش آئند اور صوبائی حکومت کیلئے اطمینان بخش ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ صوبائی حکومت کی پولیس اصلاحات کا فائدہ عوام کو نہ ہوا تو ہم سمجھیں گے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پولیس کو با اختیار اور خود مختار بنا کر صحیح فیصلہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت خیبرپختونخوا پولیس کو پاک فوج کی طرح صحیح معنوں میں قابل فخر اور عوامی خدمات کا ادارہ بنانا چاہتی ہے جس کیلئے گزشتہ تین سال میں پولیس کو تمام ضروری وسائل اور سہولیات کی فراہمی کے علاوہ پولیس ایکٹ 2017 جیسی ناگزیر اور مشکل قانون سازی اور دیگر اقدامات بھی کئے گئے۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ پولیس، ڈاکٹروں اور اساتذہ سمیت جو بھی سرکاری اہلکار اپ گریڈیشن سے محروم رہ گئے ہیں اُن کی ترقیوں کی خوشخبری بھی آئندہ دو ماہ کے اندر دی جائے گی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کے مالی وسائل سے کھاد پر سبسڈی دے کر اسے وزیراعظم کا کارنامہ قرار دینا انتہائی نامناسب طرز عمل ہے ۔
وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپنا اختیار کوئی کسی کو نہیں دیتا لیکن اُنہوں نے مخصوص اور بد نام زمانہ تھانہ کلچر کو ختم کرنے اور پولیس کو سیاسی مداخلت کی لعنت سے چھٹکارا دلانے کی خاطر اس وعدے پر پولیس کو اپنا اختیا دے دیا کہ وہ تھانہ کلچر کو درست کرے گی اور سیاسی شخصیات کا آلہ کار نہیں بنے گی اور عوام کی خادم بن کر اپنے فرائض انجام دے گی ۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہماری پولیس بہترین اور قابل فخر ہے اور اس کا میابی کی چھوٹی سی وجہ یہ ہے کہ ہم نے پولیس کو با اختیار اور غیر سیاسی بنا دیا ہے انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ماضی میں پولیس لوگوں کی غلام تھی اور اسی غلامی کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کے باوجود پولیس کا ریکارڈ اچھا نہیں تھا ۔
انہوں نے کہا آج ہماری پولیس کی قربانیوں کو فخر اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اُنکی حکومت نے تمام تر مشکلات کے
باوجود وہ تمام اقدامات کئے جو پولیس کی اصلاح کے لئے ضروری تھے اور ہم اپنی اس کوشش کے مطلوبہ مقاصد حاصل کرکے کامیاب رہے ہیں۔
انہوں نے آئی جی، ڈی آئی جی اور ضلعی پولیس افسران پر زور دیتے ہوئے کہاکہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ تھانوں میں کسی بھی سائل کو کوئی
تکلیف نہ ہو۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ٹورسٹ پولیس کا قیام بھی ہماری حکومت کی نئی سوچ اور وقت کی ضرورت ہے جس سے سیاحوں کے علاوہ عام لوگوں کو بھی فائدہ پہنچے گا ۔
انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے ہزارہ اور دیگر شمالی علاقوں میں سیاحت کی ترقی پر پوری توجہ مرکوز کررکھی ہے اور اس سلسلے میں چین کے ساتھ کئی منصوبوں پر بات چیت جاری ہے۔ ایبٹ آباد میں ٹریفک کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ زیر تعمیر مری روڈ آئندہ پانچ چھ ماہ میں ہر صورت میں مکمل کیا جائے گا جبکہ ایبٹ آباد بائی پاس روڈ پر بھی کام جلد شروع کیا جار ہا ہے ۔
انہوں نے صحافیوں کے ایک سوال پر کہاکہ اگر وفاقی حکومت ایبٹ آباد میں کوئی بائی پاس بنانا چاہتی ہے تو صوبائی حکومت اس کے لئے ہر ممکن تعاون کرے گی تاہم اُنہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے پیسے سے سبسڈی دے کر اسے وزیر اعظم کا کارنامہ قرار دینا افسوس ناک امر ہے ۔ ایک اور سوال پر پرویز خٹک نے واضح کیا کہ اُن کے دور میں سیاسی بنیادوں پر تبادلوں کوکوئی ثابت نہیں کر سکتا ۔
انہوں نے کہاکہ انکوائری رپورٹوں میں جن افسران کی برطرفی کی سفارش کی جاتی ہے اُن سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جاتی ۔ ہری پور کے صحافی کے قتل سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ پولیس اس ضمن میں بغیر کسی اثر و رسوخ کے اپنا کام کررہی ہے اورپولیس کے کام پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا ۔
انہوں نے کہاکہ پولیس تفتیش سے قبل اس قتل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔مقتول بخشیش الہٰی کے اہل خانہ کے لئے امداد کے بارے میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں جوبھی امداد کر سکتی ہے وہ اعلان کے بغیر بھی کرے گی۔
وزیراعلیٰ کے مشیر مشتاق غنی کی درخواست پر پرویز خٹک نے نواں شہر میں ریسکیو 1122 کے قیام اور مری روڈ کی جلد ازجلد تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی جبکہ ایوب پل حویلیاں تا دھمتوڑ بائی پاس پر بھی جلد کام شروع کرنے کا یقین دلایا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پولیس ریفارمز کے نتیجے میں پولیس کا عوام کی خدمت کیلئے پرعزم رہنا اور ان میں احساس ذمہ داری خوش آئند اور صوبائی حکومت کیلئے اطمینان بخش ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ صوبائی حکومت کی پولیس اصلاحات کا فائدہ عوام کو نہ ہوا تو ہم سمجھیں گے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پولیس کو با اختیار اور خود مختار بنا کر صحیح فیصلہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت خیبرپختونخوا پولیس کو پاک فوج کی طرح صحیح معنوں میں قابل فخر اور عوامی خدمات کا ادارہ بنانا چاہتی ہے جس کیلئے گزشتہ تین سال میں پولیس کو تمام ضروری وسائل اور سہولیات کی فراہمی کے علاوہ پولیس ایکٹ 2017 جیسی ناگزیر اور مشکل قانون سازی اور دیگر اقدامات بھی کئے گئے۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ پولیس، ڈاکٹروں اور اساتذہ سمیت جو بھی سرکاری اہلکار اپ گریڈیشن سے محروم رہ گئے ہیں اُن کی ترقیوں کی خوشخبری بھی آئندہ دو ماہ کے اندر دی جائے گی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کے مالی وسائل سے کھاد پر سبسڈی دے کر اسے وزیراعظم کا کارنامہ قرار دینا انتہائی نامناسب طرز عمل ہے ۔
وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپنا اختیار کوئی کسی کو نہیں دیتا لیکن اُنہوں نے مخصوص اور بد نام زمانہ تھانہ کلچر کو ختم کرنے اور پولیس کو سیاسی مداخلت کی لعنت سے چھٹکارا دلانے کی خاطر اس وعدے پر پولیس کو اپنا اختیا دے دیا کہ وہ تھانہ کلچر کو درست کرے گی اور سیاسی شخصیات کا آلہ کار نہیں بنے گی اور عوام کی خادم بن کر اپنے فرائض انجام دے گی ۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہماری پولیس بہترین اور قابل فخر ہے اور اس کا میابی کی چھوٹی سی وجہ یہ ہے کہ ہم نے پولیس کو با اختیار اور غیر سیاسی بنا دیا ہے انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ماضی میں پولیس لوگوں کی غلام تھی اور اسی غلامی کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کے باوجود پولیس کا ریکارڈ اچھا نہیں تھا ۔
انہوں نے کہا آج ہماری پولیس کی قربانیوں کو فخر اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اُنکی حکومت نے تمام تر مشکلات کے
باوجود وہ تمام اقدامات کئے جو پولیس کی اصلاح کے لئے ضروری تھے اور ہم اپنی اس کوشش کے مطلوبہ مقاصد حاصل کرکے کامیاب رہے ہیں۔
انہوں نے آئی جی، ڈی آئی جی اور ضلعی پولیس افسران پر زور دیتے ہوئے کہاکہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ تھانوں میں کسی بھی سائل کو کوئی
تکلیف نہ ہو۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ٹورسٹ پولیس کا قیام بھی ہماری حکومت کی نئی سوچ اور وقت کی ضرورت ہے جس سے سیاحوں کے علاوہ عام لوگوں کو بھی فائدہ پہنچے گا ۔
انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے ہزارہ اور دیگر شمالی علاقوں میں سیاحت کی ترقی پر پوری توجہ مرکوز کررکھی ہے اور اس سلسلے میں چین کے ساتھ کئی منصوبوں پر بات چیت جاری ہے۔ ایبٹ آباد میں ٹریفک کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ زیر تعمیر مری روڈ آئندہ پانچ چھ ماہ میں ہر صورت میں مکمل کیا جائے گا جبکہ ایبٹ آباد بائی پاس روڈ پر بھی کام جلد شروع کیا جار ہا ہے ۔
انہوں نے صحافیوں کے ایک سوال پر کہاکہ اگر وفاقی حکومت ایبٹ آباد میں کوئی بائی پاس بنانا چاہتی ہے تو صوبائی حکومت اس کے لئے ہر ممکن تعاون کرے گی تاہم اُنہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے پیسے سے سبسڈی دے کر اسے وزیر اعظم کا کارنامہ قرار دینا افسوس ناک امر ہے ۔ ایک اور سوال پر پرویز خٹک نے واضح کیا کہ اُن کے دور میں سیاسی بنیادوں پر تبادلوں کوکوئی ثابت نہیں کر سکتا ۔
انہوں نے کہاکہ انکوائری رپورٹوں میں جن افسران کی برطرفی کی سفارش کی جاتی ہے اُن سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جاتی ۔ ہری پور کے صحافی کے قتل سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ پولیس اس ضمن میں بغیر کسی اثر و رسوخ کے اپنا کام کررہی ہے اورپولیس کے کام پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا ۔
انہوں نے کہاکہ پولیس تفتیش سے قبل اس قتل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔مقتول بخشیش الہٰی کے اہل خانہ کے لئے امداد کے بارے میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں جوبھی امداد کر سکتی ہے وہ اعلان کے بغیر بھی کرے گی۔
وزیراعلیٰ کے مشیر مشتاق غنی کی درخواست پر پرویز خٹک نے نواں شہر میں ریسکیو 1122 کے قیام اور مری روڈ کی جلد ازجلد تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی جبکہ ایوب پل حویلیاں تا دھمتوڑ بائی پاس پر بھی جلد کام شروع کرنے کا یقین دلایا۔











0 comments:
Post a Comment